Bismillah/بِسمِ الله

از کلاس وقتیکہ فارغ شودوم سیدھا طرفِ سٹاف روم رئی شودوم۔ آوازِ خندہ از سٹاف روم امدہ رئي بود۔ غئیدیکہ نزدیکِ سٹاف روم رسیدوم آوازِ خندہ زیاد شودہ رئي بود۔ درونِ سٹاف روم امادوم مینگرنوم کہ چار استاد دہ یک کونجک بلے چوکیا شیشتہ بود خندہ کدہ رئي بود۔
“یونس صاحب، آئیے — اِدھر آئیے آج کا تازہ لطیفہ سنئیے،” یک استاد طرف از مہ توخ کدہ گفت۔
طرفِ استادا رافتوم بلے یک چوکی دہ پہلوی ازونا شیشتوم۔
“یونس صاحب، آپ نے کبھی 105/100 سنا ہے — وہ بھی اسلامیات کے پرچہ میں؟” یک استاد خندہ کدہ گفت۔
“نہیں،” گفتم۔
“مگر مسلم آباد ہائ سکول میں یہ ممکن ہے،” اونا دوبارہ خندہ کدہ گفت۔
“وہ کیسے، جناب؟” پرسان کدوم۔
“جناب، قاری صاحب نے ساتویں جماعت کے بچہ کو اسلامیات کے پرچہ میں 100 میں سے 105 نمبر دیا ہے۔”
“کیا؟” تعجب کدوم۔ “آپ یقیناً مذاق کر رہے ہے۔”
“نہیں، خدا کی قسم میں مذاق نہیں کر رہا ہوں۔ انھوں نے بچہ کو 100 میں سے 105 نمبر دیا ہے۔”
“Unbelievable” گفتم۔
“آپ یقین کریں میں سچ بول رہا ہوں،” استاد گفت۔
ما حیران بودوم کہ ایتر چتور موشنہ۔ اید یقین مہ نمیماد کہ یگو از 100 نمبر 105 نمبر بیگرہ۔ دہ امی فکرا بودوم کہ پرنسپل صاحب دہ ای دوران، اچانک دہ سٹاف روم داخل شود۔ تمام استادا ایستہ شود۔
“کیا بات ہے جناب؟ پرنسپل صاحب پرسان کد۔ “خوب زوروں کی ہنسی چل رہی ہے۔” وقتیکہ پرنسپل صاحب بلے چوکی شیشت دیگہ استادا ام شیشت۔
“سر، وہ آپ نے قاری صاحب کے بارے میں سنا ہے؟” یک استاد کہ دہ پہلوی چپ مہ شیشتہ بود پرنسپل رہ گفت۔
“کیا ہوا ہے قاری صاحب کو؟” پرنسپل پرسان کد۔
“سر انھوں نے اسلامیات کے پرچہ میں ساتویں جماعت کے ایک بچہ کو 100 میں سے 105 نمبر دیا ہے۔” استاد کم خندہ کدہ گفت۔
“کیا؟” پرنسپل صاحب تعجب کد۔
“جی سر، میں نے خود یہ پرچہ دیکھا ہے۔”
“پرچہ کس کے پاس ہے؟” پرنسپل پرسان کد۔
“جی، وہ وائس پرنسپل کے پاس ہے۔” استاد گفت۔
“ٹھیک ہے میں ابھی ان سے پوچھتا ہوں۔” پرنسپل گفت۔ بعد ازو اونا کم دہ قار از سٹاف روم برو بور شود۔ چپراسی رہ کوئ کدہ گفت کہ قاری صاحب و وائس پرنسپل رہ فورن دہ دفتر ازونا رئي کنہ۔ اونا ہر دوی شی دہ دفتر پرنسپل اماد۔ وائس پرنسپل، پرنسپل رہ پرچہ نشان دد۔ پرنسپل پرچہ رہ دہ قراری توخ کد۔ بعد ازو اونا طرف قاری توخ کدہ پرسان کد “ قاری صاحب، یہ پرچہ آپ نے چیک کیا ہے؟”
“جی جناب،” قاری صاحب پرچہ رہ توخ کدہ گفت۔
“کُل نمبر 100 ہے آپ نے 105 نمبر کیسے دیا ہے؟” پرنسپل کم دہ قار پرسان کد۔
“جناب دیکیھے،” قاری پرچہ رہ طرف پرنسپل بورد و اونا رہ نشان ددہ گفت “بچہ نے بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ پرچہ کے شروع میں بہت خوبصورت لکھا ہے۔ میں نے اس کو پانج نمبر بِسْمِ الله لکھنے پر دیا ہے۔”
“مگر کُل نمبر تو 100 ہے۔۔۔”
“جی جناب مجھے معلوم ہے مگر پانج نمبر تو بِسْمِ الله کا بنتا ہے،” قاری صاحب پرنسپل رہ گپ شی مونٹی کدہ گفت۔
“مگر قاری صاحب ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ آپ کُل نمبر سے زیادہ بچہ کو نمبر دے،” پرنسپل وضاحت کد۔
“جناب آپ خود پرچے کو دیکھیے کتنا خوبصورت بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ لکھا ہے۔ میرے خیال میں اسکا پانج نمبر تو حق بنتا ہے،” قاری صاحب دہ اطمینان گفت۔
“ٹھیک ہے قاری صاحب ابھی آپ جاؤ،” پرنسپل صاحب کم دہ قار گفت۔
وقتیکہ قاری از دفترِ پرنسپل برو بور شود پرنسپل، وائس پرنسپل رہ حکم دد “ آپ یہ پرچہ دوبارہ چیک کریں اور نمبر بھی کم کریں۔”
“ٹھیک ہے سر،” وائس پرنسپل از اطاقِ (کمرہ) پرنسپل بور شودہ گفت۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.