The Blanket /کمبل

blanket ستمبر کی خوشگوار رات تھی وادی میں چاند آسمان پر پورے آب وتاب سے چمک رہاتھا لیکن گیا رہ سالہ پیٹر(Peter) نہ ہی چاند کی طرف متوجہ تھااور نہ ہی باورچی خانے میں ستمبر کی سرد ہوا کو محسوس کررہا تھا کیونکہ اس کی تمام ترتوجہ باورچی خانے میں میز پر پڑے ہوئے سرخ اور سیاہ رنگ کے کمبل پر تھی یہ کمبل ابو نے دادا کو تحفے  میں دیا  تھا۔۔۔ ایک جانے والا تحفہ۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ دادا  گھر سے جارہے ہیں اس لئے انہوں نے کمبل کو جانے والے کا نام دیا تھا مگر پیٹر کو ابھی تک یقین نہیں آرہا تھا کہ ابو دادا کواس کمبل کے ساتھ جانے کا کہیں گے جسے اس نے آج ہی خریدا تھا اور یوں پیٹر کی اپنے دادا کے ساتھ یہ آخری شام تھی

دادا اور پوتے نے اکٹھے رات کا کھانا کھایا کھانے کے برتن دھوئے ابو اس عورت کے ساتھ باہر جاچکے تھے جس سے اس نے شادی کرنا تھی اورکچھ ہی دیر میں واپس لوٹنا تھا جب تمام برتن دھل چکے تو دادا اپنے پوتے کے ساتھ باہر آیا اور دنوں چاند کی روشنی میں بیٹھ گئے۔

“میں اپنا ہار مونیکا (Harmonica) لے آتا ہوں اور تمہارے لئے کچھ پرانی دھنیں بجاؤ ں گا”، دادا نے اٹھتے ہوئے کہا۔

مگر ہار مونیکا کی بجائے وہ کمبل لے آیا یہ ایک بڑا دوہرا (Double) کمبل تھا ”کتنا پیارا کمبل ہے“، دادا نے اپنی ٹانگوں پر لپٹتے ہوئے کہا۔

”ایک بوڑھے آدمی کو اس طرح کے خوبصورت کمبل کے ساتھ رخصت کرنا کیا تم نہیں سمجھتے ہو کہ تمہارے ابومجھ پر کتنے مہربان ہیں یہ بہت قیمتی ہے دیکھو! اس کے پشم کی طرف یہ آنے والی سرد راتوں کے لئے بہترین تحفہ ہوگا اور مجھے یقین ہے کہ اس طرح کاکمبل سرکاری اولڈہاؤس (Old House) میں کسی بھی بوڑھے کے پاس نہیں ہوگا“۔

دادا پوتے کو آسان الفاظ میں سمجھانے کی کوشش کررہا تھا کہ یہ اس کا اپنا آئیڈیا تھا اور اسے فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ سرکاری اولڈہاؤس میں اپنے دیگر ہم عمردوستوں کے ساتھ مزے میں رہے گا اور اسے بہترین سہولیات میسر ہو گی لیکن پیٹر کو یہ یقین نہیں آرہا تھا کہ دادا کے لئے تحفہ لانے والا ابو انہیں گھر سے جانے کا کیوں کہیں گے۔

”ہاں یہ اچھا کمبل ہے“، پیٹر نے کمرے کی طرف جاتے ہوئے کہا اور تھوڑی دیر میں دادا کا ہار مونیکا لے آیا۔

جیسے ہی دادا نے ہار مونیکا کو ہاتھ میں لیا کمبل زمین پر گر پڑا اس طرح ان دونوں کی اکھٹے رہنا یہ آخری رات تھی چند لمحوں کے لئے دادا اور پوتے نے کوئی بات نہ کی پھر دادا نے ہار مونیکا سے کچھ دھنیں بجائیں اور کہا “یہ دھن تم ضرور یاد کروگے“۔

چاند کی روشنی میں ہلکی ہلکی سرد ہوا چل رہی تھی پیٹر دادا کے بارے میں سوچ رہا تھا وہ دادا کے ہار مونیکا کو دوبارہ نہیں سن سکے گا یہ اچھا ہوتا کہ ابو نئے گھر چلے جاتے یہاں سے بہت دور کیونکہ اس رات کے بعد وہ دادا کے ساتھ کبھی بھی ایسی بہترین راتوں میں چاند کی روشنی میں نہیں بیٹھ سکے گا دھن ختم ہوئی کچھ دیر خاموش بیٹھے رہنے کے بعد دادا نے کہا ”یہاں نسبتاً کچھ بہتر ہے“ پیٹر نے دادا پر نظر دوڑائی اور پھر خیالوں میں گم ہوگیا ابو سے اس لڑکی کی شادی ہوگی وہ لڑکی جس نے اس کا منہ چوما تھا اور کہاتھا کہ وہ اس کے لئے ایک اچھی ماں ثابت ہوگی۔

دادانے اچانک دھن بجانا روک دی اور کہا “کہ جس لڑکی کے ساتھ تمہارے ابو کی شادی ہوگی وہ اچھی لڑکی ہے اس طرح کی حسین بیوی کے ساتھ تمہارا والد پھر سے جوان نظر آئے گا اور مجھ جیسا بوڑھا شخص گھر میں کیا کرے گا راستے میں پڑا ایک بے وقوف بوڑھا جس کی تمام تر باتیں کمرکے درد اور تکلیفوں کے بارے میں ہوتی ہیں اور پھر بچے ہوں گے تمام رات ان کی رونے کی آوازیں مجھ سے برداشت نہیں ہوں گی میرے لئے بہتریہی ہے کہ میں چلا جاؤں اچھا ایک یا دو دھنیں اور سنو پھر ہم سونے کے لئے جائیں گے صبح میں اپنا کمبل لے کر اپنی راہ لے لوں گا اسے سنو یہ ذرا غمگین ہے مگر آج کی رات کے لئے بہترین ہے“۔

دادا اور پیٹر نے ان دونوں (ابو اور نوجوان لڑکی) کو آتے ہوئے نہیں دیکھا تھا مگر جیسے ہی انہوں نے لڑکی کے ہنسنے کی آواز سنی دادا نے فوراً دھن بجانا روک دی ابو نے کچھ نہیں کہا تاہم لڑکی نے دادا کی طرف جاکر طنزیہ انداز میں کہا ”میں صبح آپ کو نہیں دیکھ پاؤنگی اس لئے خدا حافظ کہنے آئی ہوں“۔

”یہ آپ کی مہربانی ہے“، دادا نے پھر اپنے پیروں پر سے کمبل کو اٹھاتے ہوئے کہا ”دیکھو کتنا پیارا کمبل ہے میرے بیٹے نے مجھے ساتھ لے جانے کے لئے دیا ہے“۔

”ہاں! یہ اچھا کمبل ہے“ لڑکی نے کہا “یقیناً بہترین ہے”، کمبل کی پشم کو ہاتھ لگاتے ہوئے اس نے کہا پھر وہ ابو کی طرف مڑی اور سرد لہجے میں کہا “یقیناً زیادہ رقم خرچ ہوئی ہوگی”۔

لڑکی کھڑی رہی وہ کمبل کو دیکھ رہی تھی “او ہو …… یہ دوہرا (Double)بھی ہے”۔

“ہاں بیٹا، بوڑھے آدمی کے ساتھ یہ دوہرا کمبل اچھا رہے گا” دادا نے کہا اس دوران پیٹر اچانک کمرے کی طرف گیا مگر کمبل کے بارے میں لڑکی کی آواز کمرے سے آرہی تھی پیٹر نے ابو کو بھی دادا پر ناراض ہوتے ہوئے سنا جونہی پیٹر کمرے سے باہر آیا تو دیکھا کہ لڑکی تیزی سے ابو کی طرف مڑی اور بولی “میرے خیال میں تمہارے ابو کو دوہرے کمبل کی ضرورت نہیں ہے تم کیا کہتے ہو؟ اس بارے میں”۔

ابو نے عجیب نظروں سے لڑکی کی طرف دیکھا۔

“ابو یہ ٹھیک کہہ رہی ہے دادا کو دہرے کمبل کی ضرورت نہیں ہے”، پیٹر نے کہا۔

پیٹر نے قینچی ابو کی طرف بڑھادی ……”کاٹیں اسے ابو ……دو برابر حصوں میں اسے کاٹیں”، دونوں (ابو اور لڑکی) پیٹر کو حیرانگی سے دیکھ رہے تھے۔ “میں آپ سے کہہ رہا ہوں ابو دو برابرحصوں میں اسے کاٹیں اور دوسرے حصے کو اپنے پاس رکھیں”۔

 “یہ برا خیال نہیں ہے مجھے دوہرے کمبل کی ہرگز ضرورت نہیں ہے”، دادا نے معصومیت سے کہا۔

”ہاں جب دادا کو ہم یہاں سے دور بھیچ رہے ہیں کمبل کا ایک حصہ ان کے لئے کافی ہے ہم دوسرے حصے کو محفو ظ رکھیں گے ابو یہ بعد میں کام آئے گا”، پیٹر نے کہا۔

“کیا مطلب ہے تمہارا ؟” ابو نے ڈانٹ کر پوچھا۔

“میرا مطلب ہے دوسرا حصہ میں آپ کو دوں گا ابو ……جب آپ بوڑھے ہوجائیں گے میں بھی آپ کو اولڈ ہاوس بھیج  دونگا”، پیٹر نے آہستگی سے کہا۔

ایک طویل خاموشی چھاگئی ابو دادا کی طرف گئے اور کچھ کہے بغیر دادا کے سامنے کھڑے ہوگئے مگر دادا سمجھ گئے اپنا ہاتھ ابو کے کاندھوں پر رکھا پیٹر انہیں دیکھ رہا تھا اس دوران دادا کی ہلکی سے سرگوشی بھی اس نے سن لی “……کوئی بات نہیں بیٹا میں جانتا تھا کہ تمہارا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا……” اور پھر پیٹر نے رونا شروع کردیا لیکن پریشانی کی کوئی بات نہیں کیونکہ وہ تینوں اکٹھے خوشی سے رورہے تھے۔

 

Floyd James Dell (June 28, 1887 – July 23, 1969) was an American newspaper and magazine editor, literary critic, novelist, playwright, and poet. He has been called “one of the most flamboyant, versatile and influential American Men of Letters of the first third of the 20th Century.”

The short story “The Blanket” by Floyd James Dell translated in Urdu language by me was published on Thursday 21st of October 1999 on Literary Page Daily Jang Urdu Newspaper Quetta, Pakistan.