The Gift Of The Magi / تحفہ

gold watchchainاس کے پاس کُل ایک ڈالر اور ستاسی سینٹ(1.87$) تھےاور  اُن  میں  ساٹھ  سینٹ  ( 60cents) صرف  ایک اور دو پیسوں میں تھے جسے بمشکل  سبزی، گوشت اور دوسری چیزوںمیں سے بچا   پائ تھی۔ اس نے رقم کو تین بار گنا لیکن ہر  مرتبہ ایک ڈالر اور ستاسی سینٹ        (1.87$) ہی تھی  وہ پریشا ن تھی کیونکہ کل کرسمس                    (Christmas)  تھی۔

وہ کچھ بھی نہیں کرسکتی تھی سوائے اس کے کہ وہ صوفہ (Couch) پر جاکر لیٹ جاۓ اور خوب روئے لہٰذا ڈیلا (Della) نے ایسا ہی کیا بظاہر اس آراستہ فلیٹ کا کرایہ آٹھ ڈالر فی ہفتہ تھا نیچے کوریڈور  (Corridor) میں ایک چھوٹا سالیٹر بکس تھاجس میں خط بھی نہیں ڈالا جا سکتا تھا ایک بجلی کی گھنٹی تھی جو ناکارہ تھی دروازے کے ساتھ ہی ایک چھوٹی سی تختی تھی جس پر جناب جیمزڈ یلینگم ینگ (Mr. James Dillingham Young) لکھا ہوا تھا۔

جب تختی لگائی گئی تو جناب جیمزڈیلینگم ینگ ہفتہ میں 30ڈالر کماتے تھے کیونکہ ان دنوں اس کے مالک کا کاروبار بہت اچھا تھا لیکن جب آمدنی کم ہوتی گئی تو اسے ہفتہ میں محض 20ڈالر ملنے لگے لیکن تب بھی اس کا نام بہت لمبا اور اہم معلوم ہوتا تھا مگر اسے جیمزڈی ینگ           (James.D.young) ہونا چاہئے تھا کیونکہ ان حالات میں جب جناب جیمزڈیلینگم ینگ آراستہ کمرے میں داخل ہوتا تو اس کانام واقعی بہت چھوٹا معلوم ہوتا تھا لیکن ہمیشہ کی طرح اس کی بیگم ڈیلا اپنے خاوند جیمزڈلینگم ینگ کا استقبال گرم جوشی سے کرتی اور اسے جم (Jim) کہہ کر خوش آمدید کہتی ۔

ڈیلا نے رونا بند کردیا اور اپنے چہرے کو صاف کرلیا وہ کھڑکی کے ساتھ کھڑی ہوگئی اور بناکسی دلچسپی کے باہر دیکھنے لگی کل کرسمس کادن ہوگا اور اس کے پاس ایک ڈالر اور ستاسی سینٹس تھے جس میں سے اسے جم کے لئے تحفہ  بھی خریدنا تھا تنگ دستی کے باوجود اس نے مہینوں سے اتنی رقم بچار کھی تھی حالانکہ گرانی کے اس دور میں بیس ڈالر ایک ہفتہ کے لئے کافی نہیں تھے کیونکہ ہر چیز کی قیمت اس کی توقعات سے کہیں زیادہ تھی اور یہ سلسلہ ہمیشہ سے یونہی چلا آرہا تھا۔

اپنے جم  (Jim) کے لئے صرف ایک ڈالر ستاسی سینٹس کا تحفہ جس کی خوشیوں کے لئے میں ہمیشہ بہت اچھے منصوبے بناتی تھی میرے لئے یہ اعزاز سے کم نہ تھا کہ میرا تعلق جم کے ساتھ ہے۔

کمرے کی کھڑکی کے ساتھ ہی ایک آئینہ تھا شاید آپ نے آٹھ ڈالر فی ہفتہ کرائے والے آراستہ کمروں میں اسی قسم کی آئینے دیکھے ہوں گے یہ بہت ہی چھوٹا تھا ایک شخص بیک وقت بمشکل ہی اپنے ایک حصے کی جھلک دیکھ سکتا تھا تاہم اگر کوئی دبلا مگر چست ہوتو ہوسکتا ہے کہ وہ اس آئینے میں اپنا بہتر سراپا دیکھ پاتا ڈیلادبلی تھی اور وہ یہ فن بخوبی جانتی تھی۔

وہ اچانک کھڑکی سے ایک طرف ہوئی اور آئینہ کے سامنے کھڑی ہوئی اس کی روشن آنکھیں چمک رہی تھیں تاہم چہرے کا رنگ اترا ہوا تھا اس نے فوراً اپنے بالوں کو نیچے گرادیا اور اسے اس کی لمبائی پر چھوڈدیا۔

جیمزڈیلینگم ینگ(James Dillingham Young)  کو اپنی بعض چیزوں پر بہت فخر تھا ایک اس کی گھڑی تھی جو اس کی والد کی تھی اور بہت پہلے یہ گھڑی اس کے دادا کے پاس تھی اور دوسری چیز ڈیلا کے خوبصورت بال تھے۔

اگر ملکہ ڈیلا کے گھر کے قریب رہتی تو ڈیلااُس جگہ اپنے بالوں کو دھوتی اور کنگھی کرتی جہاں سے ملکہ اسے دیکھ سکتی کیونکہ  ڈیلا جانتی تھی کہ اس کے بال کسی بھی ملکہ کے جواہرات اور تحفوں سے کہیں زیادہ قیمتی ہیں۔

اگر بادشاہ بھی اسی گھر میں رہتا اور جم اس سے ملتا تو وہ بادشاہ کے تمام خزانے کو نظر انداز کرتا اور بادشاہ کو جلانے کے لئے اپنی گھڑی کو نکالتا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ کسی بھی بادشاہ کے پاس اس طرح کی قیمتی چیز یقیناً نہیں ہوگی۔

ڈیلا کے خوبصورت بال بھورے پانی کے آبشار کی مانند چمک رہی تھے یہ گھٹنوں تک دراز تھے اور اس کے لئے تقریباً لباس کی مانند تھے۔

پریشانی کی حالت میں فوراً اس نے دوبارہ اپنے بالوں کو اکٹھا کرکے سر کے پیچھے جوڑا باندھا وہ ایک لمحے کے لئے رکی اور وہیں کھڑی رہی جبکہ آنسو اس کی آنکھوں سے جاری تھے اس نے بھورے رنگ کا کوٹ پہنا سرپر ٹوپی رکھی آنکھوں میں آنسو لئے جلدی سے باہر گئی اور گلی میں چل پڑی۔

بیگم صوفرونی (Mrs.Sofronie) کے سائن بورڈ کے قریب رکی جو ہرقسم کے مصنوعی بالوں کا کاروبار کرتی تھی ڈیلا دکان کی طرف دوڑی جو دوسری منزل پر تھی بیگم صوفرونی بہت موٹی اور بے حد سفید خاتوں تھی اس نے سردنگاہوں سے اس کی طرف دیکھا۔

”کیا آپ میرے بال خریدیں گی؟“ڈیلا نے کہا۔

”میں ہر قسم کے بال خریدتی ہوں اپنا ٹوپی اتارو اور مجھے دیکھنے دو،“ بیگم صوفرونی نے کہا۔

جونہی ڈیلا نے ٹوپی اتاری بال آبشار کی مانند نیچے گر پڑے۔”بیس ڈالر“ بیگم صوفرونی نے بالوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا۔

”جلدی سے مجھے رقم دیجئے“ ڈیلا نے کہا۔

جم کے واسطے تحفہ خریدنے کے لئے وہ ایک دکان سے دوسری دکان میں یوں جارہی تھی جیسے وہ ہوا میں اڑ رہی ہو۔

آخر کار وہ تحفہ ڈھونڈ نے میں کامیاب ہوگئی یہ یقیناً صرف جم کے لئے ہی بنا ہوا تھا کسی بھی دکان میں اس جیسا تحفہ نہیں تھا کیونکہ اس نے شہر کی تمام دکانیں چھان ماری تھیں یہ گھڑی کے سونے کا چین (Chain) تھا جو بہت ہی خوبصورت تھا اس کی خوبی اس کی خوبصورتی اور خالص پن میں تھی کیونکہ یہ بے انتہا سادہ مگر بہت ہی دلکش تھا دنیا کی تمام اچھی چیزیں اسی طرح ہوتی ہیں۔

جو نہی ڈیلا کی نظر چین (Chain)  پر پڑی تو اسے خیال آیا کہ جم کے پاس یہ ضرور ہونی چاہئے کیونکہ چین (Chain) بھی جم کی مانند دلکش اور قیمتی تھا اس نے بیس ڈالر میں چین کی قیمت ادا کی اور فوراً گھر روانہ ہوئی۔

جم اپنی گھڑی کے نئے چین کے ساتھ کسی بھی وقت جلد گھڑی کی طرف دیکھ کر وقت معلوم کرسکتا ہے گھڑی کے اس قدر خوبصورت ہونے کے باوجود اسے کبھی بھی ایک اچھا چین میسر نہیں آسکا تھا وہ اکثر اس وقت اپنی گھڑی کو جیب سے نکالتا اور اس کی طرف دیکھتا جب وہ محسوس کرتا کہ کوئی دوسرا اس کے قریب نہیں ہے۔

جب ڈیلا گھر پہنچی تو قدرے پر سکون تھی اس نے سنجیدگی سے سوچنا شروع کیا کہ کیسے چہرے کے تاثرات کو چھپایا جائے مگر جب محبت اور سخاوت آپس میں ملتے ہیں تو گہرے نقوش چھوڑ جاتے ہیں اور یہ ممکن نہیں ہے کہ اس قسم کے تاثرات کو آسانی سے چھپایا جائے۔

مگر کچھ ہی دیر میں ڈیلا نے بہتری محسوس کی اپنے کٹے ہوئے بال کے ساتھ وہ بالکل ایک اسکول جانے والے لڑکے کی طرح معلوم ہورہی تھی وہ دیر تک آئینے کے سامنے کھڑی رہی۔

اگر جم نے پہلی نظر میں مجھے قتل نہیں کیا تو دوسری نظر میں یقینا وہ مجھے کہے گا کہ میں اس لڑکی کی مانند معلوم ہوتی ہوں جو پیسے کے لئے گاتی ہے اور رقص کرتی ہے لیکن میں ایک ڈالر اور ستاسی سینٹس کے ساتھ کیا کرسکتی تھی؟

سات بجے جم کے لئے کھانا تیارتھا۔

جم رات کوگھر آنے میں دیر نہیں کرتاتھا ڈیلا نے چین کو اپنے  مٹھی میں لیا اور دروازے کے قریب بیٹھ گئی جہاں سے وہ روزانہ داخل ہوتا تھا اس دوران اس نے قدموں کی آہٹ سنی اور ایک لمحے کے لئے اس کے چہرے کا رنگ نیلا پڑ گیا کیونکہ وہ ہمیشہ دن بھر کی معمولی چیزوں کے لئے دعا مانگتی تھی مگر اس دفعہ اس نے یہ دعا مانگی ”اے خدا اس کے دل میں یہ خیال پیدا کردے کہ میں ابھی تک خوبصورت ہوں.“

دروازہ کھلا اور جم کمرے میں داخل ہوا وہ بہت کمزور دکھائی دے رہا تھا اور چہرے پرمسکراہٹ بھی نہ تھی بیچارا صرف بائیس سال کاتھا اورایک گھر بھی سنبھال رہاتھا خود اسے نئے کوٹ کی ضرورت تھی اور ہاتھوں کو سردی سے بچانے کے لئے اس کے پاس دستانے بھی نہیں تھے۔

جم کمرے میں کھڑا اور خاموش تھا ایک شکاری کتے کی طرح جب وہ پرندے کے قریب ہوتا ہے وہ ڈیلا کو عجیب نظروں سے دیکھ رہا تھا اور آنکھوں میں ایک خاص قسم کا تاثر بھی تھا جسے ڈیلا سمجھ نہیں پارہی تھی تاہم وہ خوفزدہ ہوگئی کیونکہ یہ نہ ہی غصہ اور حیرانگی تھی اور نہ ہی کوئی ایسی چیز جس کے لئے ڈیلا پہلے سے تیار ہوتی وہ محض ڈیلا کو عجیب نظروں سے دیکھ رہا تھا۔

ڈیلا اس کی طرف گئی۔

”پیارے جم، میری طرف ایسے مت دیکھو میں نے اپنے بال کاٹ دیے ہیں اور انہیں بیچ دیا ہے کیونکہ کرسمس والی رات تمہیں تحفہ دیئے بغیر مجھ سے رہا نہیں جاسکتا میرے بال دوبارہ لمبے ہوں گے آپ فکر نہ کریں میرے بال بہت تیزی سے بڑھتے ہیں یہ کرسمس والی رات ہے جم چلو، اپنا موڈ درست کرو تمہیں معلوم نہیں ہے کہ میں نے تمہارے لئے کتنا اچھا اور خوبصورت تحفہ خریدا ہے،“ ڈیلا نے کہا۔

”تم نے اپنے بال کٹوائے ہیں،“ جم نے آہستگی سے کہا وہ اپنے آپ کو انجان بنارہا تھا اور ایسا ظاہر کررہا تھا کہ اسے کچھ بھی معلوم نہیں ہے۔

”میں نے اپنے بال کاٹ دیئے ہیں اور اسے بیچ دیا ہے کیا تم اب مجھے نہیں چاہتے ہو؟ یہ میں ہوں جم، لمبے بالوں کے بغیر بھی پہلے کی طرح ہوں،“ ڈیلا نے کہا۔

جم نے کمرے کی طرف نظر دوڑائی۔

”تم کہتے ہو کہ تمہارے بال نہیں ہے۔“  جم نے کہا۔

”تم اس کی وجہ سے پریشان مت ہونا یہ اب بِک چکے ہیں میں تمہیں بتاتی ہوں …… یہ کرسمس والی رات ہے جم، اپنا موڈٹھیک کرو کیونکہ میں نے اپنے بال تمہارے لئے بیچے ہیں ہوسکتاہے کہ میرے سرکے بال تمہارے لئے اہم ہوں مگر میں تمہیں کتنا چاہتی ہوں شاید تم جلد سمجھ جاؤگی۔“

جم نے اپنے کوٹ کی جیب سے کاغذ میں لپٹی ہوئی ایک چیز نکالی اور اسے میز پر رکھ دیا ”ڈیلا میں چاہتا ہوں کہ تم مجھے سمجھنے کی کوشش کرو مجھے دنیا کی کوئی بھی چیز تمہارے بالوں سے زیادہ خوشی نہیں دے سکتی ہے لیکن اگر تم وہ چیز کھول دو جو میں تمہارے لئے لے آیا ہوں شاید تمہیں اندازہ ہوجائے کہ مجھ پر کیا گزری جب میں نے کمرے میں قدم رکھا،“ جم نے کہا۔

ڈیلا نے جب اپنے خوبصورت ملائم سفید ہاتھوں سے اسے کھولا تو وہ خوشی سے چلائی مگر بعد میں خوشی کے آنسو اس کی آنکھوں سے نکلنا شروع ہوگئے۔

کیونکہ کاغذ میں کنگھی تھی وہ کنگھی جسے ڈیلا نے دکان میں دیکھا تھا اور ایک عرصے سے اسے حاصل کرنا چاہتی تھی قیمتی نگینوں سے جڑی ہوئی خوبصورت کنگھی اس کے خوبصورت اور لمبے بالوں کے لئے بہترین تھی اسے معلوم تھی کہ کنگھی بہت قیمتی ہے اسے کبھی بھی یہ یقین نہیں تھا کہ کنگھی بھی اس کی ہوجائے گی لیکن اب کنگھی اس کے پاس تھی مگر اس کے بال نہیں تھے۔

اس نے کنگھی کو ہاتھ میں لیا دیکھا اور کہا”جم میرے بال بہت تیزی سے بڑھتے ہیں“ ڈیلا نے خوشی سے چھلانگ لگائی اور چلائی ”اوہ ، اوہ“

جم نے ابھی تک اپنا تحفہ نہیں دیکھا تھا اس نے گھڑی کے چین کو اپنے ہاتھ کے سامنے کیا سونے کا چین اس کی محبت اور جذبے کی مانند اس کے سامنے چمک رہی تھی۔

”جم، کیا یہ خوبصورت نہیں ہے! پورے شہر میں تلاش کرنے کے بعد مجھے یہ ملا اب تم روزانہ سینکڑوں مرتبہ اپنی گھڑی کی طرف دیکھ سکو گے فوراً مجھے اپنی گھڑی دو میں دیکھنا چاہتی ہوں کہ یہ کیسے دکھتی ہوتی ہے۔“

”ڈیلا،  چلو ہم اپنے کرسمس کے تحفوں کو تھوڑی دیر کے لئے لے لیتے ہیں یہ بہت خوبصورت ہے مگر اب میر ے خیال میں ہمیں کھانا کھا لینا چاہئے کیونکہ میں نے کنگھی خریدنے کے لئے اپنی گھڑی کو بیچ دیا ہے۔“ جم نے کہا۔

 

William Sydney Porter (September 11, 1862 – June 5, 1910), known by his pen name O. Henry, was an American writer. O. Henry’s short stories are known for their wit, wordplay, warm characterization, and clever twist endings. The Gift of the Magi is about a young couple who are short of money but desperately want to buy each other Christmas gifts.

I translated “The Gift of the Magi” in Urdu language, which was published on Thursday18th of November 1999 on Literary Page Daily Jang Urdu Newspaper Quetta, Pakistan.